:
Breaking News

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی بھارت آمد، مودی سے اہم ملاقات آج

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ اپنے پہلے بھارت دورے پر دہلی پہنچ گئے ہیں۔ آج وہ صدر، وزیراعظم مودی اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جہاں دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون پر بات ہوگی۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ اپنے پہلے سرکاری دورے پر بھارت پہنچ گئے ہیں، جہاں دارالحکومت نئی دہلی میں ان کا پرتپاک اور روایتی انداز میں استقبال کیا گیا۔ اس اعلیٰ سطحی دورے کو بھارت اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کے ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صدر لی جے میونگ کے ہمراہ جنوبی کوریا کی خاتون اول کم ہییا کیونگ بھی موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی بھارت آیا ہے جس میں وزراء، سینئر حکام اور بڑے کاروباری رہنما شامل ہیں۔

دہلی میں شاندار استقبال اور آج کا اہم شیڈول

صدر لی جے میونگ کے دورے کا آج کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں متعدد سرکاری اور سفارتی سرگرمیاں شامل ہیں۔

صبح 9 بجے ان کا رسمی استقبال صدراتی محل (راشٹرپتی بھون) میں کیا جائے گا، جہاں انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے راج گھاٹ جائیں گے۔

صبح 11:30 بجے صدر لی جے میونگ کی اہم ملاقات وزیر اعظم نریندر مودی سے حیدرآباد ہاؤس میں ہوگی، جہاں دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔

اہم معاہدوں اور تعاون پر بات چیت

ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں اقتصادی تعاون، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، دفاعی شراکت داری، اور صنعتی ترقی کے منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔

بھارت اور جنوبی کوریا پہلے ہی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت قریبی تعلقات رکھتے ہیں، اور یہ دورہ ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

بھارت-کوریا بزنس فورم اور اقتصادی روابط

دوپہر کے بعد صدر لی جے میونگ بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے بھارت-کوریا بزنس فورم میں شرکت کریں گے۔ اس فورم میں دونوں ممالک کے کاروباری ادارے سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع پر غور کریں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ دورہ خاص طور پر الیکٹرانکس، آٹو موبائل، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھا سکتا ہے۔

صدراتی سطح پر ملاقات

شام کے وقت صدر لی جے میونگ کی ملاقات بھارت کی صدر دروپدی مرمو سے راشٹرپتی بھون میں ہوگی۔ یہ ملاقات رسمی سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

دہلی آمد اور ابتدائی استقبال

صدر لی جے میونگ کے دہلی پہنچنے پر مرکزی وزیر ہرش ملہوترا نے ان کا استقبال کیا۔ وزارت خارجہ نے اس دورے کو بھارت اور جنوبی کوریا کے درمیان “خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری” کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے اور مستقبل میں تعاون کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔

سفارتی ملاقاتوں کا سلسلہ

دہلی آمد کے بعد صدر لی جے میونگ نے بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں بحر ہند خطے کی سلامتی، اقتصادی تعاون اور تکنیکی شراکت داری پر بھی گفتگو ہوئی۔

نتیجہ: مضبوط ہوتے بھارت-جنوبی کوریا تعلقات

صدر لی جے میونگ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ دفاع، معیشت، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اور جنوبی کوریا آنے والے سالوں میں ایک مضبوط اسٹریٹجک بلاک کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔

یہ دورہ نہ صرف سفارتی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ایشیا میں بدلتے ہوئے جیوپولیٹیکل توازن میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *